Sunehri Shaher – Lucknow

‘سنہری شہر ‘ لکھنؤ

                                     عجب لہجہ ہے اسکی گفتگو کا
غزل جیسی زباں وہ بولتا ہے

ہندوستانی تہذیب ایک ملی جلی تہذیب ہے۔ خاص طور سے شمالی ہند میں۔بقول فراق گورکھپوری ۔۔۔۔

سرزمین ہند اقوام عالم کے فراق
قافلے آتے گۓ ہندوستاں بستا گیا

 

           لکھنؤ اس خطے میں واقع ہے جسے ماضی میں اودھ کہا جاتا تھا۔اپنی زبان کی شیرینی، لب ولہجہ ، مہمان نوازی، وضعداری اور شہری سکون کی بنا پر ایل جی کارپوریشن اور آئ ایم آر بی انٹرنیشنل سروے کے مطابق چندی گڑھ کے بعد “ بھارت کا دوسرا سب سے خوش “ شہر قرار دیا گیا۔ لکھنؤ ہمیشہ سے ایک کثیر ثقافتی شہر رہا ہے۔ یہاں کے نوابوں اور حکمرانوں نے انسانی آداب، خوبصورت باغات، شاعری، موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ کی خوب پذیرائ کی۔ لکھنؤ نوابوں کا شہر بھی کہلاتا ہے۔ اور اسے مشرق کا ‘ سنہری شہر’ اور ‘ شیراز ہند ‘ بھی کہتے ہیں۔ ج کا لکھنؤ ایک ترقی پذیر شہر ہے۔ جسمیں اقتصادی ترقی دکھائ دیتی ہے۔ نوابوں کے اس شہر اپنا ہی ایک الگ مزاج ہے۔ لکھنؤ کی تہذیب جسے نوابین اودھ نے سنوارا، دراصل ایرانی تہذیب تھی جس میں ہندو اور مسلمان تہذیب کے عناصر شامل ہو گئے۔ یہاں کی تہذیب میں آج بھی نوابی شان وشوکت کے ساتھ وضعداری ، پاسداری، نزاکت، نفاست سبھی کچھ اس انداز سے رچے بسے ہیں بھارت کے اہم شہروں میں گنے جانے والی لکھنؤ کی ثقافت ( culture) میں جذبات کی گرماہٹ کے ساتھ اعلیٰ احساس اور محبت کو بھی شامل کردیا ہے

لکھنؤ کے معاشرے میں نوابوں کے وقت سے ہی “ پہلے آپ” والا انداز رچا بسا ہے۔ وقت کے ساتھ ہر طرف جدیدیت کا دور دورہ ہے۔ لیکن اب بھی شہر کی آبادی کا ایک حصہ اپنی تہذیب کو سنبھالے ہوۓ ہے۔ یہی تہذیب یہاں دو بڑے مذاہب کے لوگوں کو ایک ثقافت سے باندھے ہوۓ ہے۔ لباس اور کھان پان کے لحاظ سے بھی یہ اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ پان یہاں کی ثقافت کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ جس کے بغیر لکھنؤ نامکمل لگتا ہے۔

کشش لکھنؤ ارے توبہ 
                    پھر وہی ہم وہی امین آباد

لباس کے معاملے میں بھی لکھنؤ اپنی ایک نوابی شان دکھاتا نظر آتا ہے۔ یہ گھاگھرے کے لئے مشہور ہے۔ جو خواتین کا ایک روایتی لباس ہے۔ جسکو غرارہ اور شرارہ بھی کہا جاتا ہے۔ محفلوں اور مجلسوں میں جہاں خواتین اپنے روایتی لباس وزیورات میں ملبوس نظر آتی ہیں وہیں مرد حضرات شیروانی اور چوڑی دار پائجاموں میں پر وقار نظر آتے ہیں۔

لکھنؤ ہندی فلمی صنعت کا شروع سے ہی مرکز رہا ہے۔ یہاں سے بالی وڈ کا رابطہ بہت سے مصنفوں ، شاعروں، اسکرپٹ رائٹرز اور نغمہ نگاروں جیسے مجروح سلطان پوری، کیفی اعظمی، جاوید اختر، وجاہت مرزا ( مدر انڈیا اور گنگا جمناکے مصنف) وغیرہ کے ساتھ جڑا ہے۔ بہت سی ہندی فلمیں جیسے امراؤ جان، شطرنج کے کھلاڑی، بہو بیگم، میرے حضور وغیرہ ایسی فلمیں ہیں جو یا تو لکھنؤ میں بنی ہیں یا انکا پس منظر لکھنؤ ہے۔ صنعت کاری کے معاملے میں چکن کی کڑہائ اور لکھنوی زردوزی یہاں کی خاص صفت ہے۔ جسکا مخصوص علاقہ پرانے لکھنؤ کا چوک ہے۔ لکھنؤ کا نام آنے پر یہاں کے پکوان کا ذکر کرنا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ نوابی پکوان اس علاقے کی پہچان ہیں۔ مختلف طرح کی بریانی، کباب، قورمہ، نہاری، قلچے، شیرمال، کاکوری اور گلاوٹی کباب سب کا اپنا مزہ ہے۔لکھنؤ کی چاٹ ہندوستان کی بہترین چاٹ میں سے ایک ہے۔

 

لکھنؤ مہوتسو، لکھنؤ لٹریچر فیسٹیول وغیرہ یہاں کے تفریحی پروگرام کا خاص حصہ ہیں۔ اسکے علاوہ مشاعرے، ادبی محفافل و مجالس یہاں کے کلچر کا اہم ترین حصہ ہیں۔تاریخی مقامات کی بات کی جائے تو امام باڑے، بھول بھلیاں ، آصفی مسجد، بیگم حضرت محل پارک وغیرہ قابل دید ہیں۔ ان کے علاوہ لکھنؤ ریزڈینسی کے باقیات انگریزی دور کی واضح تصویر دکھاتے ہیں۔ کنگ جارج میڈیکل کالج، لامارٹیننر کالج اسی دور کی یادگار ہیں۔ لکھنؤ کا گھنٹہ گھر بھارت کاسب سے بڑا گھنٹہ گھر ہے۔ اور سب سے بڑھ کر شام اودھ کی شام کا مزہ لینے کے لئے آج بی حضرت گنج کی سہانی شامیں لکھنؤ کی دلکشی میں اضافہ کرتی ہیں۔

فرح سروش

, ,